Showing posts with label فیضان ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label فیضان ہاشمی. Show all posts

Wednesday, April 8, 2020

آنکھ سے آنسو گرے آئینے سے ریت گری

آنکھ سے آنسو گرے آئینے سے ریت گری
پانی سے کھنچی تھی تصویر مگر آہی گئی
آخری بار وہ بھیگی ہوئی آنکھیں دیکھیں
اور پھر ان میں بسے خواب پہ تنقید کری
یاد آیا تو کہاں چھوڑ کے آیا تھا مجھے
دل کے اندر کوئی تکلیف سی محسوس ہوئی
ایک دیوار نے دونوں کو اندھیرے میں رکھا
اور پھر رات سے پہلے ہی ہمیں چاٹ گئی
سیر پر آئے کسی شخص کے بارے میں سنا
اک عمارت پہ بنی تیسری کھڑکی چونکی
کتنے قطرے کیے گمراہ سمندر کہہ کر
کتنے ذرات کی طاقت سے تباہی ہو گی ؟
ایک جنگل پہ مری بھوک کا مذہب اترا
ایک دریا پہ مری پیاس کی تہذیب بنی
کچھ کتابوں میں ترے باغ کے بارے میں پڑھا
اور پھر تیری کئی لوگوں سے تعریف سنی
فیضان ہاشمی

Monday, April 6, 2020

سمجھ میں آ چکے ہیں اور سوچے جا چکے ہیں

سمجھ میں آ چکے ہیں اور سوچے جا چکے ہیں
مچانوں سے بہت سے تیر چھوڑے جا چکے ہیں
فقط مٹی کی خشبو رہ گئی ہے اس بدن میں
کہ بارش رک چکی ہے اور فرشتے جا چکے ہیں
یہیں پر لا کھڑا کرتی ہے ہر اک بار ہمکو
ہزاروں  بار اس آہٹ کے پیچھے جا چکے ہیں
میں تیرے باغ میں موجود ہوں پر تو نہیں ہے
سرہانےپر مرے کچھ پھول رکھے جا چکے ہیں
تمھارے پاس کوئی روشنی ہے تو دکھا ئو
ہماری آنکھ سے تو خواب چھینے جا چکے ہیں
غزل محبوب سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہے
تمھاری بے رخی پر شعر لکھے جا چکے ہیں

فیضان ہاشمی