آنکھ سے آنسو گرے آئینے سے ریت گری
پانی سے کھنچی تھی تصویر مگر آہی گئی
آخری بار وہ بھیگی ہوئی آنکھیں دیکھیں
اور پھر ان میں بسے خواب پہ تنقید کری
یاد آیا تو کہاں چھوڑ کے آیا تھا مجھے
دل کے اندر کوئی تکلیف سی محسوس ہوئی
ایک دیوار نے دونوں کو اندھیرے میں رکھا
اور پھر رات سے پہلے ہی ہمیں چاٹ گئی
سیر پر آئے کسی شخص کے بارے میں سنا
اک عمارت پہ بنی تیسری کھڑکی چونکی
کتنے قطرے کیے گمراہ سمندر کہہ کر
کتنے ذرات کی طاقت سے تباہی ہو گی ؟
ایک جنگل پہ مری بھوک کا مذہب اترا
ایک دریا پہ مری پیاس کی تہذیب بنی
کچھ کتابوں میں ترے باغ کے بارے میں پڑھا
اور پھر تیری کئی لوگوں سے تعریف سنی
فیضان ہاشمی
The influential poetry are those words that enter from the ear to.Poetry can provide a mirror for us to see ourselves, and a window into others' experiences. Here are the poetry collections
Showing posts with label فیضان ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label فیضان ہاشمی. Show all posts
Wednesday, April 8, 2020
آنکھ سے آنسو گرے آئینے سے ریت گری
Monday, April 6, 2020
سمجھ میں آ چکے ہیں اور سوچے جا چکے ہیں
سمجھ میں آ چکے ہیں اور سوچے جا چکے ہیں
مچانوں سے بہت سے تیر چھوڑے جا چکے ہیں
فقط مٹی کی خشبو رہ گئی ہے اس بدن میں
کہ بارش رک چکی ہے اور فرشتے جا چکے ہیں
یہیں پر لا کھڑا کرتی ہے ہر اک بار ہمکو
ہزاروں بار اس آہٹ کے پیچھے جا چکے ہیں
میں تیرے باغ میں موجود ہوں پر تو نہیں ہے
سرہانےپر مرے کچھ پھول رکھے جا چکے ہیں
تمھارے پاس کوئی روشنی ہے تو دکھا ئو
ہماری آنکھ سے تو خواب چھینے جا چکے ہیں
غزل محبوب سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہے
تمھاری بے رخی پر شعر لکھے جا چکے ہیں
فیضان ہاشمی
Subscribe to:
Posts (Atom)